السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2216. -- باب: من قال يجوز بيع العين الغائبة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ غائب چیز (جو سامنے موجود نہ ہو) کی بیع جائز ہے۔
حدیث نمبر: 10424
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ هِبَةُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، أنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ، ابْتَاعَ مِنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَرْضًا بِالْمَدِينَةِ نَاقَلَهُ بِأَرْضٍ لَهُ بِالْكُوفَةِ فَلَمَّا تَبَايَنَا نَدِمَ عُثْمَانُ ثُمَّ قَالَ:" بَايَعْتُكَ مَا لَمْ أَرَهُ"، فَقَالَ طَلْحَةُ:" إِنَّمَا النَّظَرُ لِي إِنَّمَا ابْتَعْتُ مَغِيبًا، وَأَمَّا أَنْتَ فَقَدْ رَأَيْتَ مَا ابْتَعْتَ" فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا حَكَمًا فَحَكَّمَا جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ فَقَضَى عَلَى عُثْمَانَ أَنَّ الْبَيْعَ جَائِزٌ وَأنَّ النَّظَرَ لِطَلْحَةَ أَنَّهُ ابْتَاعَ مَغِيبًا وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ میں زمین خریدی۔ ان کی زمین کوفہ میں تھی اس سے تبادلہ کیا، جب انہوں نے بیع کر لی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے، پھر کہنے لگے: ”میں نے ایسی چیز کی بیع کی جس کو میں نے دیکھا نہیں۔“ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”دیکھنا تو میرے لیے ضروری تھا، کیونکہ میں نے غائب چیز خریدی ہے، لیکن آپ نے تو جو خریدا ہے اس کو دیکھا ہے۔“ انہوں نے اپنے درمیان ایک فیصل مقرر کر لیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ان کے فیصل تھے۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فیصلہ سنایا کہ بیع جائز ہے اور دیکھنا تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو تھا، کیونکہ انہوں نے ایک غائب چیز کو خریدا ہے۔
اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10424]
اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی گئی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10424]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10424 in Urdu