🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2217. -- باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار
-- باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10449
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ شُعَيْبًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ ابْتَاعَ مِنْ رَجُلٍ بَيْعَةً، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا مِنْ مَكَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ مَخَافَةَ أَنْ يُقِيلَهُ"، ⦗٤٤٦⦘ قَوْلُهُ: يُقِيلَهُ أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ يَفْسَخُهُ فَعَبَّرَ بِالْإِقَالَةِ عَنِ الْفَسْخِ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ثُمَّ عَنْ شُرَيْحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس شخص نے کسی سے سامان خریدا تو دونوں کو اختیار ہے، یہاں تک کہ دونوں اپنی جگہ سے جدا ہو جائیں، سوائے اس کے کہ دونوں کے درمیان بیعِ اختیاری ہو اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ بیع کے فسخ کے ڈر سے اپنے ساتھی سے جدا ہو جائے۔“ بیع کے فسخ کرنے کو اقالہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وادی کا مال ان کے خیبر کے مال کے بدلے فروخت کر دیا، جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں واپس ہوا یہاں تک کہ میں اس ڈر سے ان کے گھر سے نکل گیا کہ کہیں وہ بیع واپس نہ کر دیں، اور طریقہ یہ تھا کہ جب خریدنے والا اور بیچنے والے دونوں الگ الگ نہ ہوں تو انہیں سودا توڑنے کا اختیار ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب میری اور ان کی بیع مکمل ہو گئی تو میں نے دیکھا کہ میں نے ان سے (ایک طرح کی) چالبازی کی ہے کہ میں نے ان کو قومِ ثمود کی زمین کی طرف تین راتوں کی مسافت پر کر دیا ہے، جبکہ انہوں نے مجھے مدینہ کی سرزمین کی طرف تین راتوں کی مسافت قریب کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10449]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10449 in Urdu