السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2223. -- باب: الأجناس التي ورد النص بجريان الربا فيها
-- باب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 10474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، وَأَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" لَفْظُ حَدِيثِهِمْ سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ جَارِيَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا أَشُكُّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ، وَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي جَارِيَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ خَازِنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(١٠٤٧٤) حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں نے سو دینار کے عوض سونا خریدا تو طلحہ بن عبیداللہ نے مجھے بلایا اور ہم نے آپس میں قیمت طے کی یہاں تک کہ اس نے مجھ سے خرید لیا اور سونے کو لے کر وہ اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے۔ پھر کہنے لگے: یہ رکھ لو جب تک میرا خزانچی غابہ نامی جگہ سے آجائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن رہے تھے، فرمانے لگے: اس سے جدا نہ ہونا۔ یہاں تک کہ اس سے قیمت وصول کرلو۔ پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے، چاندی چاندی کے، گندم گندم کے، کھجور کھجور اور کے جو جو کے عوض سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔
(ب) شافعی کی حدیث میں ہے کہ جب تک میرا خزانچی یا میری لونڈی غابہ نامی جگہ سے واپس آجائے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: میں نے امام مالک کے سامنے اس کی صحیح تلاوت کی۔ مجھے شک نہ تھا پھر ایک وقت گزر گیا، مجھے صحیح یاد نہ رہا تو مجھے شک پیدا ہوگیا کہ میرا خزانچی یا میری لونڈی، لیکن میرے علاوہ دوسرے خزانچی کے لفظ ہی بیان کرتے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن یوسف امام مالک سے خزانچی کے لفظ ہی ذکر کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10474]
(ب) شافعی کی حدیث میں ہے کہ جب تک میرا خزانچی یا میری لونڈی غابہ نامی جگہ سے واپس آجائے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: میں نے امام مالک کے سامنے اس کی صحیح تلاوت کی۔ مجھے شک نہ تھا پھر ایک وقت گزر گیا، مجھے صحیح یاد نہ رہا تو مجھے شک پیدا ہوگیا کہ میرا خزانچی یا میری لونڈی، لیکن میرے علاوہ دوسرے خزانچی کے لفظ ہی بیان کرتے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن یوسف امام مالک سے خزانچی کے لفظ ہی ذکر کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10474]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2065»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10474 in Urdu