السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10488
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ بِحَدِيثٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو سَعِيدٍ فَنَزَلَ هَذِهِ الدَّارَ فَأَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَيْنَاهُ، فَقَالَ:" مَا يُحَدِّثُ هَذَا عَنْكَ؟" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ:" بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي، قَالَ: فَمَا نَسِيتُ قَوْلَهُ بِأُصْبُعِهِ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَبَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
(١٠٤٨٨) نافع فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ ابوسعید اس گھر میں آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک ہم آئے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آپ سے کیا بیان کرتا ہے؟ ابوسعید کہنے لگے: میری آنکھوں نے دیکھا میرے کانوں نے سنا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو نہیں بھولا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کی انگلی کے اشارہ سے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے کی خریدو فروخت سے منع کیا، مگر برابر برابر اور تم ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10488]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2176»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10488 in Urdu