🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2227. -- باب: جواز التفاضل في الجنسين، وأن البر والشعير جنسان مع تحريم النساء إذا جمعتهما علة واحدة في الربا
-- باب: دو مختلف جنسوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کے جواز اور اس بات کا بیان کہ گندم اور جَو دو الگ الگ جنسیں ہیں، نیز ادھار کی حرمت جب ان میں سود کی علتِ واحدہ جمع ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا تَوْبَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ شَهِدَ النَّاسَ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْأَعْطِيَةِ، فَقَالَ عُبَادَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى، فَإِذَا اخْتَلَفَ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوهَا يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ لَا بَأْسَ بِهِ الذَّهَبُ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالْبُرُّ بِالشَّعِيرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالْمِلْحُ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" ⦗٤٦٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ كَمَا مَضَى وَهَذِهِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ مُفَسَّرَةٌ..
ابوالاشعث صنعانی سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں کے پاس موجود تھے، وہ عطیات ملنے تک (ادھار پر) سونے اور چاندی کے برتنوں کی بیع کر رہے تھے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض، برابر برابر فروخت کرو۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود لیا۔ جب یہ جنسیں مختلف ہو جائیں تو نقد بنقد جیسے چاہو فروخت کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔ سونا چاندی کے عوض، نقد بنقد جیسے چاہو، گندم جَو کے بدلے جیسے چاہو نقد بنقد اور نمک کھجور کے عوض جیسے چاہو۔“
یہ صحیح روایت ہے جو (مسئلے کی) وضاحت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10504]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1587»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10504 in Urdu