السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2241. -- باب: ما جاء في النهي عن بيع الرطب بالتمر
-- باب: تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10564
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رُطَبٍ بِتَمْرٍ، فَقَالَ:" أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" لَا يُبَاعُ رُطَبٌ بِيَابِسٍ" وَهَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.
عبداللہ بن ابی سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تر کھجور کے عوض خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم ہوجاتی ہیں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تر کھجور خشک کے بدلے فروخت نہ کی جائے۔“
یہ عمدہ مرسل روایت ہے جو پچھلی روایات کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10564]
یہ عمدہ مرسل روایت ہے جو پچھلی روایات کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10564]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10564 in Urdu