السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2245. -- باب: النهي عن بيع المخاضرة
-- باب: بیعِ مخاضرہ (پھل اور فصل کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10582
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ، قَالُوا: ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمُخَاضَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ" - زَادَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ - وَالْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ بِطُولِهِ..
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُخَاضَرَةِ» (پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنا) اور «الْمُعَاقَلَةِ» (کوئی شخص گندم کی کھیتی کو ایک سو فرق کے عوض فروخت کر دے) اور «الْمُزَابَنَةِ» (کھجور کے درخت کی کھجوریں خشک کھجور کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کی جائیں اگر زیادہ ہوں تو میرا حق ہوگا اور کم پڑیں تو ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی)“ اور ابن عمر بن یونس رحمہ اللہ نے زیادہ کیا کہ ” «الْمُنَابَذَةِ» (ایک آدمی دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینکتا ہے اور ان کا سودا بغیر دیکھے اور بغیر رضامندی کے طے ہو جاتا ہے) اور «الْمُلَامَسَةِ» (کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے کپڑے کو دن ہو یا رات چھوتا ہے، اس کو الٹ پلٹ کر نہیں دیکھتا)“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10582]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2093»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10582 in Urdu