السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2246. -- باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار
-- باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10597
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ" قِيلَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ وَمَا زَهْوُهَا؟ قَالَ:" حَتَّى تَحْمَرَّ وَتَصْفَرَّ"، قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ حَبَسَ اللهُ الثِّمَارَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ حُمَيْدٍ وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَنَسٌ:" أَرَأَيْتَ إنْ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟"، وَكَذَلِكَ قَالَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ فَجَعَلَ الْجَوَّابَ عَنْ تَفْسِيرِ الزَّهْوِ، وَقَوْلُهُ:" أَرَأَيْتَ إنَ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَ؟"، مِنْ قَوْلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ جَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ الدَّرَاوَرْدِيُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْهُ، فَاللهُ أَعْلَمُ.
حمید طویل کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پھلوں کی بیع کے متعلق سوال کیا گیا تو وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا، کہا گیا: اے ابو حمزہ! اس کا پکنا کیا ہے؟ فرمایا: ”سرخ و زرد ہو جائے۔“ فرماتے ہیں: ”اگر اللہ پھلوں کو روک لے تو آپ اپنے بھائی کے مال کیسے حلال خیال کریں گے؟“
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے زہو کی تفسیر کے جواب میں کہا: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَ» ”تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ پھل کو روک لے؟“، یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیا ہے، اور محمد بن عباد کی روایت میں دراوردی نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10597]
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے زہو کی تفسیر کے جواب میں کہا: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَ» ”تمہارا کیا خیال ہے اگر اللہ پھل کو روک لے؟“، یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیا ہے، اور محمد بن عباد کی روایت میں دراوردی نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10597]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10597 in Urdu