السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2249. -- باب: من باع ثمر حائطه، واستثنى منه مكيلة مسماة فلا يجوز؛ لنهيه عن الثنيا؛ ولما فيه من الغرر
-- باب: جو شخص اپنے باغ کا پھل بیچے اور اس میں سے ایک مقررہ ماپ کا استثناء کر لے تو یہ جائز نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے (غیر معین) استثناء (ثنیا) سے منع فرمایا ہے، اور اس لیے کہ اس میں دھوکہ (غرر) پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10618
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ"، قَالَ أَحَدُهُمَا:" وَبَيْعِ السِّنِينَ، وَعَنِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
(١٠٦١٨) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور معاومہ سے منع فرمایا ہے، ان میں سے ایک کہتے ہیں: دو سالوں اور استثناء کی بیع کی بھی ممانعت ہے اور عرایا میں رخصت دی، یعنی اندازاً درخت کے پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچا جاسکتا ہے تاکہ مالک درختوں کے تازہ پھل کو اپنے استعمال میں لاسکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10618]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1536»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10618 in Urdu