السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2250. -- باب: من قال: لا توضع الجائحة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
حدیث نمبر: Q10623
رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ بَاعَ حَائِطًا لَهُ فَأَصَابَتْ مُشْتَرِيَهُ جَائِحَةٌ فَأَخَذَ الثَّمَنَ مِنْهُ، وَلَا أَدْرِي أَثَبَتَ أَمْ لَا؟.
یہ بات عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10623]
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q10623]
حدیث نمبر: 10623
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ:" حِينَ تَحْمَرُّ" وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ..
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: اس کا پکنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ سرخ ہو جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے، پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني قريبا»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10623 in Urdu