السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2250. -- باب: من قال: لا توضع الجائحة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
حدیث نمبر: 10625
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ عَنْهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا" فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ لَهُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ، وَقَالَ: فَعَالَجَهُ وَأَقَامَ عَلَيْهِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدِيثُ عَمْرَةَ مُرْسَلٌ، وَأَهْلُ الْحَدِيثِ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ فَلَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عَمْرَةَ كَانَتْ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنْ لَا تُوضَعَ الْجَائِحَةُ لِقَوْلِهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا" وَلَوْ كَانَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ أَنْ يَضَعَ الْجَائِحَةَ لَكَانَ أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ حَلَفَ أَوْ لَمْ يَحْلِفْ، ⦗٤٩٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ أَسْنَدَهُ حَارِثَةُ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا أَنَّ حَارِثَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَأَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَصَرٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الثَّمَرِ.
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی نے باغ کا پھل خریدا۔ اس نے اس میں کام کیا، لیکن پھر بھی نقصان ہو گیا، اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ قیمت کم کرے یا سودا فسخ کر دے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہ کرے گا تو خریدار کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر تذکرہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بھلائی نہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔“ یہ بات باغ کے مالک نے سن لی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”یہ اس کے لیے ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ”یا سودا فسخ کر دے“ کے الفاظ نہیں ہیں، اور فرمایا: ”اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔“
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرہ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔
اسے حارثہ بن ابی الرجال نے اپنے والد سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسند بیان کیا ہے، لیکن حارثہ ضعیف ہیں، ان سے حجت نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن سعید نے بھی اسے ابوالرجال سے مسند بیان کیا ہے، لیکن وہ مختصر ہے، اس میں پھل کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10625]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ”یا سودا فسخ کر دے“ کے الفاظ نہیں ہیں، اور فرمایا: ”اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔“
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرہ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔
اسے حارثہ بن ابی الرجال نے اپنے والد سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسند بیان کیا ہے، لیکن حارثہ ضعیف ہیں، ان سے حجت نہیں لی جاتی۔ اور یحییٰ بن سعید نے بھی اسے ابوالرجال سے مسند بیان کیا ہے، لیکن وہ مختصر ہے، اس میں پھل کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10625]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1286»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10625 in Urdu