السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2252. -- باب: المزابنة، والمحاقلة
-- باب: مزابنہ اور محاقلہ (کی بیع) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ ثَمَرَ نَخْلِهِ كَيْلًا، وَكَرْمَهُ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا"، ⦗٥٠١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مزابنہ سے منع فرمایا ہے“ اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی تازہ کھجوریں ماپ کر خشک کھجور کے بدلے فروخت کرے اور انگور کو ماپے ہوئے کے عوض فروخت کرے۔
(ب) شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے: درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10635]
(ب) شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے: درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10635]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2073»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10635 in Urdu