السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2255. -- باب: تفسير العرايا
-- باب: بیعِ عرایا کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا" قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ يَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(١٠٦٦٠) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لیکن عرایا میں رخصت دی ہے اور عریہ کھجور کا درخت قوم کے لیے مختص ہے اب وہ اس کے پھل کے اندازے سے خشک کھجور حاصل کرلیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10660]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي آنفاً»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10660 in Urdu