السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2259. -- باب: النهي عن بيع ما لم يقبض، وإن كان غير طعام
-- باب: جس چیز پر قبضہ نہ کیا گیا ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان خواہ وہ غلہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حدیث نمبر: 10684
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِصْمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي بُيُوعًا فَمَا يَحِلُّ مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ؟ قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ" لَمْ يَسْمَعْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ مِنْ يُوسُفَ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ يُوسُفَ.
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا آدمی ہوں جو سامان وغیرہ خریدتا ہوں، اس میں حلال اور حرام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بھتیجے! جب تو سامان خریدے تو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرنا۔“
یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ روایت یوسف سے نہیں سنی، بلکہ انہوں نے اسے یعلیٰ بن حکیم کے واسطے سے یوسف سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10684]
یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ روایت یوسف سے نہیں سنی، بلکہ انہوں نے اسے یعلیٰ بن حکیم کے واسطے سے یوسف سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10684]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10684 in Urdu