السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. -- باب المنع من الأكل في صحاف الذهب والفضة
-- باب: سونے اور چاندی کے پیالوں میں کھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 107
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ نَفَرٍ مِنَ الْمَجُوسِ قَالَ: فَجِيئَ بِفَالَوْذَجٍ عَلَى إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْهُ. فَقِيلَ لَهُ: حَوِّلْهُ. قَالَ:" فَحَوَّلَهُ عَلَى إِنَاءٍ مِنْ خَلَنْجٍ وَجيئَ بِهِ فَأَكَلَهُ".
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجوسیوں کی ایک جماعت کے پاس تھا، آپ کے پاس چاندی کے ایک برتن میں فالودہ (میٹھا کھانا) لایا گیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا تو مجوسیوں سے کہا گیا: کسی اور برتن میں لے آؤ، چنانچہ اس نے خلنج کے برتن سے تبدیل کیا اور اس میں لے کر آیا تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس (برتن) سے کھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات وسنده متصل»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 107 in Urdu