السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2270. جماع أبواب الخراج بالضمان والرد بالعيوب وغير ذلك -- باب: ما جاء في التدليس وكتمان العيب بالمبيع
الخراج بالضمان (منافع ضمانت کے بدلے ہیں) اور عیوب کی وجہ سے چیز واپس کرنے اور دیگر مسائل پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: فروخت کی جانے والی چیز میں دھوکہ دہی اور عیب چھپانے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أنا أَبُو سِبَاعٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ بُيِّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ؟، فَقَالَ: أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا أَوْ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ، قَالَ: فَإِنَّ ⦗٥٢٤⦘ بِخُفِّهَا نَقْبًا، قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَصْلَحَكَ اللهُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَاعَ شَيْئًا فَلَا يَحِلُّ لَهُ حَتَّى يُبَيِّنَ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ".
ابوسباع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں گھر سے نکلا تو ہم نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ اپنی چادر گھسیٹ رہے تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے بندے! تو نے اونٹنی خریدی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ واثلہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا اس کے عیب کی وضاحت کی گئی ہے؟ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ ظاہری طور پر موٹی تازی اور صحت مند ہے، واثلہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ نے گوشت کے لیے خریدی ہے یا سواری کرنا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: میں حج کا سفر کرنا چاہتا ہوں۔ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے پاؤں میں سوراخ ہیں، اس کا ساتھی (یعنی اونٹنی والا) کہتا ہے کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، آپ نے معاملہ ہی خراب کر دیا۔ واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: ”جو شخص کوئی چیز فروخت کرنا چاہے تو اس کے عیب کو بیان کر دے اور یہ جائز نہیں کہ جانتے ہوئے پھر عیب کی وضاحت نہ کی جائے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10735]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 3/ 419»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10735 in Urdu