🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2272. -- باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا
-- باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10742
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ، قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ، وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْنِي" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ". فَعَجَّلْتُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ ⦗٥٢٦⦘ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَيْسَرَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ قَضَيْتُهُ اللهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ فِيهِ إِلَّا الْحَقَّ فَبَلَغَتْنِي فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرُدُّ قَضَاءَ عُمَرَ وَأُنَفِّذُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيَّ لَهُ.
مخلد بن خفاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا، میں نے اس سے غلہ حاصل کیا، پھر میں نے اس کے عیب کی نشاندہی کر دی، پھر میں جھگڑا لے کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے اس کی واپسی کا فیصلہ کر دیا اور مجھے اس کا غلہ واپس کرنے کا کہا۔ میں نے آکر عروہ رحمہ اللہ کو خبر دی تو انہوں نے کہا: میں شام کے وقت جا کر ان کو خبر دوں گا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کا فیصلہ فرمایا کہ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج ضمانت کی وجہ سے ہے۔“ میں نے حضرت عمر رحمہ اللہ کی طرف جلدی کی، میں نے ان کو بتایا جو عروہ رحمہ اللہ نے بحوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مجھے بتایا، حضرت عمر رحمہ اللہ فرمانے لگے: اپنے کیے ہوئے فیصلے کو بدلنا میرے لیے کتنا آسان ہے! اللہ جانتا ہے کہ میں نے اس میں صرف حق کا ارادہ کیا تھا، اب مجھے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پہنچ گئی ہے، لہٰذا میں عمر کا فیصلہ رد کرتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نافذ کرتا ہوں۔ عروہ رحمہ اللہ ان کے پاس گئے، تو انہوں نے میرے لیے فیصلہ کیا کہ میں خراج اس شخص سے واپس لوں جس کے حق میں انہوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10742]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10742 in Urdu