🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2289. -- باب: من باع حيوانا، أو غيره واستثنى منافعه مدة
-- باب: جس شخص نے کوئی جانور یا کوئی اور چیز بیچی اور ایک مقررہ مدت تک اس کے منافع کا اپنے لیے استثناء کر لیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ ⦗٥٥٠⦘ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَهُ وَدَعَا لَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ" قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ:" بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ" قَالَ: فَبِعْتُهُ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى أَثَرِي" أَنِّي مَا مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُمَا لَكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ، عَنْ زَكَرِيَّا..
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے، وہ تھک گیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ارادہ کیا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ کہتے ہیں: پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مارا اور دعا فرمائی۔ وہ ایسا چلا کہ اس سے پہلے اس کی مثل نہ چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ ایک اوقیہ کا فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک اوقیہ کا فروخت کر دو۔“ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں فروخت کرتا ہوں لیکن اپنے گھر تک سواری کرنے کو مستثنیٰ کرتا ہوں۔ جب میں گھر آگیا تو اونٹ کو لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت نقد دے دی۔ میں واپس چلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے کسی کو روانہ کیا کہ ”میں تجھ سے سستا نہ خریدنا چاہتا تھا کہ آپ کا اونٹ لے لوں، اپنا اونٹ اور قیمت لے لو، یہ دونوں آپ کے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10835]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2569»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10835 in Urdu