السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2297. -- باب: النهي عن بيع الملامسة والمنابذة
-- باب: بیعِ ملامسہ (چھو کر سودا طے کرنا) اور بیعِ منابذہ (چیز پھینک کر سودا طے کرنا) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10871
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ ⦗٥٥٩⦘ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ:" فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ يَشْتَمِلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ"، قَالَ: وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرَهُ، وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» یہ ہے کہ وہ ایک کپڑے کے دونوں اطراف بائیں کندھے پر رکھ لیتا ہے اور سیدھا کندھا کپڑے سے خالی ہوتا ہے اور «الْمُنَابَذَةُ» یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ ”جب میں نے یہ کپڑا پھینک دیا تو بیع واجب ہو گی“ اور «الْمُلَامَسَةُ» یہ ہے کہ وہ کپڑے کو اپنے ہاتھ سے چھوئے گا، اس کو پھیلائے اور الٹے پلٹے گا نہیں، جب ہاتھ لگا لیا تو بیع واجب ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10871 in Urdu