السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2309. -- باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا
-- باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ:" انْطَلِقْ مَعِي الْمَنْزِلَ فَأَسْقِيَكَ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ"، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَسَقَانِي سَوِيقًا، وَأَطْعَمَنِي تَمْرًا وَصَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ لِي:" إِنَّكَ فِي أَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا فَاشٍ وَإنَّ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا أَنَّ أَحَدَكُمْ يُقْرِضُ الْقَرْضَ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا بَلَغَ أَتَاهُ بِهِ وَبِسَلَّةٍ فِيهَا هَدِيَّةٌ فَاتَّقِ تِلْكَ السَّلَّةَ وَمَا فِيهَا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
ابوبردہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے ملا، انہوں نے کہا: میرے ساتھ گھر چلو میں تجھے اس پیالے میں نوش کراؤں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور آپ اس جگہ نماز پڑھیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی۔ میں ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجوریں کھلائیں۔ میں نے اس مسجد میں نماز پڑھی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ سود کے علاقے میں ہیں، جہاں سود عام ہے اور سود کا دروازہ یہ ہے کہ جب کوئی قرض مقررہ مدت کے لیے دیتا ہے، جب مدت ختم ہوتی ہے تو وہ قرض واپس کرنے کے لیے آتا ہے، اس کی ٹوکری ہدیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ تو اس ٹوکری اور سامان سے بچو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10926]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6910»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10926 in Urdu