السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2309. -- باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا
-- باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا، فَأُهْدِيَ إِلَيْهِ طَبَقٌ فَلَا يَقْبَلْهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى دَابَّةٍ فَلَا يَرْكَبْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ" كَذَا قَالَ..
یزید بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اے ابو ہمزہ! ایک آدمی اپنے بھائی کو قرض دیتا ہے، پھر وہ اسے ہدیہ دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قرض دے، پھر اس کے عوض کوئی تحفہ ملے یا سواری ملے تو اسے قبول نہ کرے الا یہ کہ ان کا آپس میں پہلے سے کوئی تعلق ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10934]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن ماجه 2432»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10934 in Urdu