🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2311. -- باب: الرجل يقضيه خيرا منه بلا شرط طيبة به نفسه
-- باب: کوئی شخص بلا شرط اپنی خوشی سے (قرض کے بدلے) اس سے بہتر چیز ادا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي بَعِيرٌ مُعْتَلٌّ وَأَنَا أَسُوقُهُ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ بَعِيرِكَ هَذَا؟" قَالَ: قُلْتُ: مُعْتَلٌّ أَوْ ظَالِعٌ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ فَضَرَبَهُ ثُمَّ قَالَ:" ارْكَبْ" فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي أَوَّلِهِ وَإِنِّي لَأَحْبِسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا أَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ:" لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طَرُوقًا" قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" مَا تَزَوَّجْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟" قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَبْدَ اللهِ تَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً قَدْ عَقَلَتْ، فَمَا قَالَ لِي أَسَأْتَ وَلَا أَحْسَنْتَ، ⦗٥٧٦⦘ ثُمَّ قَالَ لِي:" بِعْنِي بَعِيرَكَ هَذَا" قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" بِعْنِيهِ" قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيَّ قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ وُقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ:" نَعَمْ، تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ" وَأَرْسَلَ إِلَيَ بِلَالٍ، فَقَالَ:" أَعْطِهِ وُقِيَّةَ ذَهَبٍ وَزِدْهُ" فَأَعْطَانِي وُقِيَّةً وَزَادَنِي قِيرَاطًا، فَقُلْتُ: لَا يُفَارِقْنِي هَذَا الْقِيرَاطُ، شَيْءٌ زَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى أَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، الْبُخَارِيُّ بِالْإِشَارَةِ إِلَيْهِ، وَمُسْلِمٌ بِالرِّوَايَةِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور میرے پاس تھکا ہوا اونٹ بھی تھا اور لوگوں کے آخر میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اونٹ کی کیا حالت ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تھکا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دم کو پکڑ کر مارا، پھر فرمایا: ”سوار ہو جاؤ۔“ پھر میں نے اپنے آپ کو سب سے اگلے لوگوں میں پایا اور مجھے اسے روکنا پڑتا تھا۔ جب ہم قریب ہوئے تو اپنے گھر جانے کی جلدی کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر رات کو داخل نہ ہونا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بیوہ یا کنواری سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کرتے وہ تجھ سے کھیلتی، مذاق کرتی اور آپ اس سے کھیلتے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والد عبداللہ نے بچیاں چھوڑی ہیں، میں ان جیسی ان کے پاس نہیں لانا چاہتا تھا، میں نے سمجھدار عورت سے شادی کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ نہ فرمایا کہ تو نے اچھا یا برا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنا اونٹ فروخت کر دو،“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار کہا تو میں نے کہا کہ فلاں کا ایک اوقیہ سونا میرے ذمہ ہے اس کے عوض خرید لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر اپنے گھر تک چلو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو ایک اوقیہ سونا دو اور زیادہ بھی دینا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک اوقیہ اور ایک قیراط سونا دیا، میں نے کہا: یہ قیراط جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زیادہ دیا ہے مجھ سے جدا نہ ہوگا، میں نے جیب میں ڈال لیا، وہ ہمیشہ میرے پاس رہا، یہاں تک کہ وہ شامیوں نے حرہ کے دن لے لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10943]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 715»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10943 in Urdu