🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2343. -- باب: جواز السلم الحال قاله عطاء بن أبي رباح
-- باب: نقد (فوری) بیعِ سلم کے جواز کا بیان جیسا کہ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ يَعْنِي الْقَطَوَانِيَّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اشْتَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَزُورًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ بِوَسْقِ تَمْرِ عَجْوَةٍ، فَطَلَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَهْلِهِ تَمْرًا، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلْأَعْرَابِيِّ، فَصَاحَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاغَدْرَاهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ أَنْتَ يَا عَدُوَّ اللهِ أَغْدَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ؛ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا"، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، وَبَعَثَ بِالْأَعْرَابِيِّ مَعَ الرَّسُولِ، فَقَالَ:" قُلْ لَهَا إِنِّي ابْتَعْتُ هَذَا الْجَزُورَ مِنْ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ بِوَسْقِ تَمْرِ عَجْوَةٍ، فَلَمْ أَجِدْهُ عِنْدَ أَهْلِي، فَأَسْلِفِينِي وَسْقَ تَمْرِ عَجْوَةٍ لِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ"، فَلَمَّا قَبَضَ الْأَعْرَابِيُّ حَقَّهُ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" قَبَضْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، وَأَوْفَيْتَ وَأَطَيَبْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک وسق عجوہ کھجور کے عوض ایک اونٹ خریدا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے کھجور کا پتا کرایا تو گھر میں کچھ نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو بتایا کہ کھجور فی الحال نہیں ملی۔ اعرابی چیخ پڑا: ہائے دھوکا! صحابہ کرام نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو دھوکے باز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، جس نے کچھ لینا ہوتا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کی طرف اپنا ایک آدمی بھیجا اور اس کے ساتھ اعرابی کو بھی روانہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصد سے کہا کہ خولہ کو کہنا: ”میں نے یہ اونٹ خریدا ہے اعرابی سے ایک وسق عجوہ کھجور کے عوض، میرے گھر میں کھجور نہیں ملی، میری طرف سے اس اعرابی کو سلف کے طور پر ایک وسق عجوہ کھجور دے دو۔“ چنانچہ جب اعرابی نے اپنا حق وصول کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کھجور مل گئی؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے تو پورا پورا وزن دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی بہترین لوگ ہوتے ہیں جو پورا وعدہ نبھاتے ہیں اور پورا وزن دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11095]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 6/268،26780»

الحكم على الحديث: مسند احمد 6/268،26780

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11095 in Urdu