السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2344. -- باب: من أجاز السلم في الحيوان بسن وصفة وأجل معلوم إن كان إلى أجل، ومن كرهه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11098
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو سَهْلٍ ⦗٣٦⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ الثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ آخُذُ، وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمِنَ بَعِيرًا بِالصِّفَةِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضْمَنَ الْحَيَوَانُ كُلُّهُ بِصِفَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا دوندا اونٹ دینا تھا، وہ آدمی اپنا حق لینے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ صحابہ کرام نے تلاش کیا مگر اس سے بڑی عمر کا ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اسے یہی اونٹ دے دو۔“ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھے پورا بدلہ دیا ہے، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو ادائیگی میں اچھے ہوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11098]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم 1601»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11098 in Urdu