السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2346. -- باب: لا يجوز السلف حتى يدفع المسلف ثمن ما سلف فيه يكون السلف بكيل معلوم أو وزن معلوم
-- باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک سلم کرنے والا (خریدار) اس چیز کی قیمت ادا نہ کر دے جس میں سلم کی گئی ہے اور یہ سلم کسی معلوم ماپ یا معلوم وزن کے ساتھ ہونی چاہیے۔
حدیث نمبر: Q11109
قَالَ الشَّافِعِيُّ: لِأَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسْلِفْ"، إِنَّمَا قَالَ:" فَلْيُعْطِ"، لَا يَقَعُ اسْمُ التَّسْلِيفِ فِيهِ حَتَّى يُعْطِيَهُ مَا سَلَّفَهُ قَبْلَ أَنْ يُفَارِقَ مَنْ سَلَّفَهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جو شخص سلف (بیع سلم) کرے تو وہ سلف کرے۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ: ”وہ (قیمت) دے دے۔“ (کیونکہ) تسلیف (پیشگی ادائیگی) کا نام اس پر اس وقت تک صادق نہیں آتا جب تک وہ اس شخص سے جدا ہونے سے پہلے، جس کے ساتھ اس نے سلف کا معاملہ کیا ہے، اسے وہ (قیمت) ادا نہ کر دے جو اس نے پیشگی دینی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: Q11109]
حدیث نمبر: 11109
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ:" مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سُفْيَانَ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا نَرَى بِالسَّلَفِ بَأْسًا، الْوَرِقُ فِي شَيْءٍ الْوَرِقُ نَقْدًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ کھجوروں میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلف کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھجوروں میں بیع سلف کرے تو وہ وزن معلوم، پیمائش معلوم اور میعاد معلوم تک کی بیع کرے۔“ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے بدلے ادھار کی بیع سے منع کیا ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم بیع سلف میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جبکہ کسی چیز کے بدلے چاندی نقد ادا کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11109]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11109 in Urdu