السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2347. -- باب: لا يجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين
-- باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ ایسی معلوم صفت کے ساتھ نہ ہو جو کسی خاص متعین چیز (عین) کے ساتھ مقید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: إِنَّ اللهَ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ؟ قَالَ:" لَا يَا يَهُودِيُّ، وَلَكِنِّي أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَجَلِ، وَلَا أُسَمِّي مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَبَايَعَنِي، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي، وَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَجَلِ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، حتیٰ کہ فرمایا کہ زید بن سعنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! کیا آپ مجھے کھجور بیچتے ہیں، جس کی مدت بھی معلوم ہو، وزن بھی معلوم ہو اور جس باغ سے دینی ہے وہ بھی معلوم ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یہودی! میں تمہیں کھجور بیچتا ہوں، وزن بھی معلوم ہوگا اور مدت بھی، لیکن کس باغ سے دینی ہے یہ شرط نہیں ہوگی۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر میں نے اپنی اشرفی کھولی اور اسی دینار دے دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11114]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11114 in Urdu