السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2354. -- باب: لا خير في أن يعجله بشرط أن يضع عنه
-- باب: اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ وہ اس شرط پر جلدی ادائیگی کرے کہ حقدار اس کا کچھ حق معاف کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11138
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ: بِعْتُ بُرًّا مِنْ أَهْلِ السُّوقِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ وَيَنْقُدُونِي، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلَا تُؤْكِلَهُ".
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے بازار میں گندم بیچی اور اس کی ادائیگی کا وقت مقرر کیا۔ پھر میں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مجھ سے شرط لگائی کہ میں کچھ قرض معاف کر دوں تو وہ وقت سے پہلے ادائیگی کردیں گے۔ میں نے یہ بات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”میں تجھے اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ تو ایسا مال کھائے یا دوسروں کو کھلائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11138]
تخریج الحدیث: «موطا امام مالك 1351»
الحكم على الحديث: موطا امام مالك 1351
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11138 in Urdu