السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2354. -- باب: لا خير في أن يعجله بشرط أن يضع عنه
-- باب: اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ وہ اس شرط پر جلدی ادائیگی کرے کہ حقدار اس کا کچھ حق معاف کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11140
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: لِرَجُلٍ عَلَيَّ دَيْنٌ، فَقَالَ لِي: عَجِّلْ لِي وَأَضَعُ عَنْكَ فَنَهَانِي عَنْهُ وَقَالَ: نَهَى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنْ نَبِيعَ الْعَيْنَ بِالدَّيْنِ" وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
ابو منہال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مجھ سے اپنے ایک قرضہ لینے والے نے کہا: تم مجھے قرضہ وقت سے پہلے دے دو، میں تجھے کچھ قرضہ معاف کر دوں گا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے روکا اور فرمایا: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ہے کہ ہم قرضہ کے بدلے میں نقد چیز بیچیں۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کی سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11140]
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی روایت کی گئی ہے جس کی سند میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 11140]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق 14359»
الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزاق 14359
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11140 in Urdu