السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2369. -- باب: العصير المرهون يصير خمرا فيخرج من الرهن ولا يحل تخليل الخمر بعمل آدمي
-- باب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11198
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حِجْرِهِ يَتِيمٌ، وَكَانَ عِنْدَهُ خَمْرٌ حِينَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصْنَعُهَا خَلًّا؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَصَبَّهُ حَتَّى سَالَ بِهِ الْوَادِي وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، وَذَكَرَ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَهُ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا، قَالَ:" أَهْرِقْهَا" قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ:" لَا".
(١١١٩٨) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ اس کی گود میں یتیم بچے تھے اور اس کے پاس شراب تھی جب کہ اس وقت شراب حرام کردی گئی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں شراب کو سرقہ بنالوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں تو اس نے اسے انڈیل دیا حتیٰ کے وادی بہہ پڑی۔ امام وکیع نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے ابو طلحہ کے بارے میں کہا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یتیموں کو ملی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اسیبہا دو انھوں نے کہا: کیا میں اسے سرقہ بنا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرهن/حدیث: 11198]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11198 in Urdu