السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
253. -- باب: طهارة الماء المستعمل
-- باب: مستعمل (استعمال شدہ) پانی کے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1121
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَمِنْ أَيْنَ لَمْ يَكُنْ نَجِسًا؟ قِيلَ: مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَلَا شَكَّ أَنَّ مِنَ الْوُضُوءِ مَا يُصِيبُ ثِيَابَهُ وَلَمْ يُعْلَمْ غَسْلُ ثِيَابِهِ مَنْهُ وَلَا أَبْدَلَهَا وَلَا عَلِمْتُهُ فَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مَنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَعْقُولًا إِذْ لَمْ تَمَسَّ الْمَاءَ نَجَاسَةٌ أَنَّهُ لَا يَنْجُسُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کہنے والا کہے کہ کہاں سے وہ نجس نہیں ہوا؟ تو اسے کہا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کچھ شک نہیں کہ وضو کے پانی میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں کو لگا، اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑے دھونا معلوم نہیں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تبدیل کیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی ایسا کیا ہو۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب پانی کو نجاست نہ لگے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1121 in Urdu