السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2376. -- باب: المشتري يموت مفلسا بالثمن
-- باب: خریدار کا قیمت ادا کرنے کے معاملے میں مفلس (دیوالیہ) ہو کر مر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11254
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أُصِيبَ، يَعْنِي أَفْلَسَ، فَأَصَابَ رَجُلٌ مَتَاعًا بِعَيْنِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، إِلَّا أَنْ يَدَعَ الرَّجُلُ وَفَاءً" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ وَعَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَقَالَا: إِلَّا أَنْ يَتْرُكَ صَاحِبُهُ وَفَاءً.
سیدنا عمر بن خلدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مفلس آدمی کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے آئے۔ اس مفلس کے پاس ایک دوسرے آدمی نے اپنا سامان بعینہ پایا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ وہ معاملہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ”جو آدمی مفلس ہو جائے یا مر جائے اور دوسرا آدمی اپنا سامان بعینہ پا لے وہ زیادہ حق دار ہے الا یہ کہ آدمی اپنے پیچھے اتنا کچھ چھوڑ جائے جو قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی ہو۔“ اسی طرح اس حدیث کو شبابہ بن سوار اور عاصم بن علی وغیرہ نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: ”مگر یہ کہ وہ مرنے والا پورا مال چھوڑ جائے جو قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11254]
تخریج الحدیث: «مسند طيالسي 2497»
الحكم على الحديث: مسند طيالسي 2497
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11254 in Urdu