السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2376. -- باب: المشتري يموت مفلسا بالثمن
-- باب: خریدار کا قیمت ادا کرنے کے معاملے میں مفلس (دیوالیہ) ہو کر مر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11256
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ يَعْنِي الْخَبَائِرِيَّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَقْبِضْ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ، فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ". زَادَ الرُّوذْبَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ:" وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ، اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ، فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنا سامان بیچے اور خریدنے والا قیمت ادا کرنے سے پہلے کنگال ہو جائے اور اس کا سامان اس کے پاس بعینہ موجود ہو تو وہ اصل مالک کی ہو گی، اگر وہ کچھ قیمت ادا کر چکا تھا تو وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر حصہ لے گا۔“ اور روذباری کے یہ الفاظ زائد ہیں: ”اور جو آدمی ہلاک ہو جائے اور اس کے پاس کسی کا سامان بعینہ موجود ہو تو اگر اس نے اس کی ادائیگی کی ہو یا نہ کی ہو تو وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11256]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11256 in Urdu