السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2382. -- باب: حبس من عليه الدين إذا لم يظهر ماله، وما على الغني في المطل
-- باب: مقروض کو قید کرنے کا بیان جب اس کا مال ظاہر نہ ہو، اور مالدار شخص کے ٹال مٹول کرنے کی وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 11279
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ" قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي عِرْضَهُ، أَنْ يَقُولَ: ظَلَمَنِي فِي حَقِّي، وَعُقُوبَتُهُ يُسْجَنُ. فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ.
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت اور اسے سزا دینا جائز ہو جاتا ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہے کہ اس نے میرا حق کھایا ہے اور سزا کے جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے قید کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11279]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 4/222 و ابو داؤد 3628»
الحكم على الحديث: مسند احمد 4/222 و ابو داؤد 3628
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11279 in Urdu