السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2399. -- باب: صلح الإبراء والحطيطة، وما جاء في الشفاعة في ذلك
-- باب: براءت (حق معاف کرنے) اور حطیطہ (کمی کرنے) کی صلح کا بیان، اور اس سلسلے میں سفارش کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11349
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ حَتَّى حَطَّ الْخَمْسَمِائَةِ، فَكَتَبَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَأَبْرَأَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ بِالْخَمْسِمِائَةِ فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ لِلشُّهُودِ:" هَلْ وَضَعَ الْخَمْسَمِائَةِ فِي كَفِّهِ؟" فَقَالُوا: لَا، فَأَمَرَ فَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَنَحْنُ أَيْضًا لَا نُجِيزُ الْحَطَّ إِذَا كَانَ بِشَرْطٍ.
(١١٣٤٩) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص کے دوسرے پر ایک ہزار پانچ سو درہم تھے۔ انھوں نے وہ دینے سے انکار کردیا حتیٰ کے وہ کم ہو کر پانچ سو رہ گئے۔ پھر اس نے ایک خط لکھا اور اس آدمی کو بری کردیا۔ پھر دوبارہ اس سے پانچ سو درہم کا مطالبہ کیا تو وہ دونوں اپنا معاملہ قاضی شریح کے پاس لے کر گئے۔ قاضی نے گواہوں سے کہا: کیا پانچ سو درہم اس آدمی کے پاس ہیں؟ انھوں نے جواب ہاں میں دیا تو قاضی صاحب نے انھیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں: اور ہم کمی کو جائز نہیں مانتے جب کوئی شرط ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11349]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11349 in Urdu