السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2409. -- باب: وجوب الحق بالضمان
-- باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لَمْ يَسْأَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ عَنْ دَيْنِهِ، فَإِنْ قِيلَ عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَإِنْ قِيلَ: لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَهُ:" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: عَلَيْهِ دِينَارَانِ دَيْنٌ، فَعَدَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمَا عَلَيَّ، بَرِئَ مِنْهُمَا، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا عَلِيُّ، جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَكَّ اللهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَّا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ، فَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ:" لَا، بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً" عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ، وَالرِّوَايَاتُ فِي تَحَمُّلِ أَبِي قَتَادَةَ دَيْنَ الْمَيِّتِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے: ”کیا یہ مقروض تو نہیں تھا؟“ پس اگر کہا جاتا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا؟“ انہوں نے کہا: اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا: ”تم اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”اے علی! اللہ تجھے بہتر جزا دے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔“ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا یہ علی (رضی اللہ عنہ) کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“
عطاء بن عجلان ضعیف ہے، اور میت کا قرض سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے اپنے ذمہ لینے والی روایات زیادہ صحیح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحوالة/حدیث: 11399]
عطاء بن عجلان ضعیف ہے، اور میت کا قرض سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے اپنے ذمہ لینے والی روایات زیادہ صحیح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحوالة/حدیث: 11399]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11399 in Urdu