🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2413. -- باب: ما جاء في الكفالة ببدن من عليه حق
-- باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11413
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ" أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، قَالَ: ائْتِنِي بِالشُّهُودِ أُشْهِدْهُمْ عَلَيْكَ، قَالَ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا، قَالَ: فَأْتِنِي بِكَفِيلٍ، قَالَ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا، قَالَ: فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ: فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ وَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلْأَجَلِ الَّذِي أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا الدَّنَانِيرَ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهَا، ثُمَّ سَدَّ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ فَقَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي تَسَلَّفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ، وَسَأَلَنِي كَفِيلًا فَقُلْتُ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَسَأَلَنِي شُهُودًا فَقُلْتُ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ الَّذِي لَهُ، فَلَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهَا، فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَطْلُبُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ سَلَّفَهُ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ مَرْكَبٌ قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، وَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الرَّجُلُ فَأَتَاهُ بِأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلِيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَدَّى عَنْكَ، فَانْصَرِفْ بِالْأَلْفِ دِينَارٍ رَاشِدًا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ.
(١١٤١٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ کیا، اس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ہزار دینار قرض مانگے۔ اس نے کہا: ایسے گواہ پیش کر جن پر مجھے اعتبار ہو، قرض مانگنے والا بولا گواہ تو اللہ ہی کافی ہے، پھر اس نے کہا: کوئی ضامن لا، اس نے کہا: ضامن بھی اللہ ہی کافی ہے۔ اس نے ایک مقرر وقت کے لیے اسے قرض دے دیا۔ یہ قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوا۔ تلاش شروع کی تاکہ اس سے دریا پار کر کے اس مقرر مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکے، جو اس سے طے پائی تھی۔ لیکن کوئی سواری نہ ملی۔ آخر اس نے ایک لکڑی لی۔ اس میں ایک سوراخ کیا، پھر ایک ہزار دینار اور ایک خط رکھ دیا اور اس کا منہ بند کردیا اور اسے دریا پر لے آیا، پھر کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تھے، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا: میرا ضامن اللہ ہے اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو میں نے یہی جواب دیا۔ وہ تجھ پر راضی ہوا اور میں نے بڑی کوشش کی کہ کوئی سواری ملے جس کے ذریعے میں اس کا قرض اس تک پہنچا سکوں، لیکن مجھے سواری نہ ملی۔ اس لیے میں اب اسے تیرے حوالے کرتا ہوں چنانچہ اس نے وہ لکڑی دریا میں بہا دی۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ واپس آگیا اور وہ اسی فکر میں تھا کہ کوئی کشتی ملے تاکہ وہ اپنے شہر جاسکے۔ دوسری طرف وہ آدمی جس نے قرض دیا تھا، اس تلاش میں آیا کہ ممکن ہے کوئی جہاز اس کا مال لایا ہو، لیکن وہاں اسے ایک لکڑی ملی اس نے وہ لکڑی گھر کے ایندھن کے لیے لے لی۔ جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی۔ پھر قرض خواہ اس کے گھر میں آیا اور ایک ہزار دینار اسے دیے اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے کوشش کی کہ کوئی سواری مل جائے اور تمہارا مال تمہیں واپس کر دوں لیکن اس دن سے پہلے جب میں یہاں پہنچا ہوں مجھے کوئی سواری نہ ملی۔ پھر اس آدمی نے پوچھا: تو نے پہلے میرے نام کوئی چیز بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا: ہاں۔ پھر اس نے کہا: اللہ نے آپ کا وہ قرض ادا کردیا ہے جو آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ چنانچہ وہ اپنا ہزار دینار لے کر واپس آگیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضمان/حدیث: 11413]
تخریج الحدیث: «صحيح۔أخرجه احمد 1/2348، 8571»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11413 in Urdu