🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2419. -- باب: التوكيل في المال، وطلب الحقوق وقضائها، وذبح الهدايا وقسمها، والبيع والشراء والنفقة، وغير ذلك
-- باب: مال، حقوق طلب کرنے اور ان کی ادائیگی، ہدی (قربانی کے جانور) ذبح کرنے اور انہیں تقسیم کرنے، خرید و فروخت، خرچ کرنے اور دیگر امور میں کسی کو وکیل (نمائندہ) مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَلَبَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَلِي ذَلِكَ مِنْهُ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ الْمُسْلِمُ فَرَآهُ عَارِيًا يَأْمُرُنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِيَ الْبُرْدَةَ وَالشَّيْءَ فَأَكْسُوَهُ وَأُطْعِمَهُ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: يَا بِلَالُ، إِنَّ عِنْدِي سَعَةً، فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ لِأُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَبَيَّهِ، فَتَجَهَّمَنِي وَقَالَ قَوْلًا غَلِيظًا، فَقَالَ: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَرِيبٌ، قَالَ: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعُ لَيَالٍ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَلَا مِنْ كَرَامَةِ صَاحِبِكَ، وَلَكِنْ أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا؛ فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَدْ قَالَ كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي، وَلَا عِنْدِي، وَهُوَ فَاضِحِي، فَأَذِنَ لِي أَنْ آتِيَ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الْأَحْيَاءِ الَّذِينَ قَدْ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجِرَابِي وَرُمْحِي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِيَ الْأُفُقَ، فَكُلَّمَا نِمْتُ انْتَبَهْتُ فَإِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلًا نِمْتُ، حَتَّى انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ الْأَوَّلِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ، أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ؛ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ"، فَحَمِدْتُ اللهَ، وَقَالَ:" أَلَمْ تَمُرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ"، وَإِذَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ لَهُ عَظِيمُ فَدَكٍ،" فَاقْبِضْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى تَأْذِينِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَجَعَلْتُ أُصْبُعِي فِي أُذُنِي، فَنَادَيْتُ وَقُلْتُ: مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي وَأَعْرِضُ وَأَقْضِي حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى فَضُلَ عِنْدِي أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي:" مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: قَدْ قَضَى اللهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، فَقَالَ:" فَضُلَ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ دِينَارَانِ، قَالَ:" ⦗١٣٤⦘ انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهُمَا، فَلَسْتُ بِدَاخِلٍ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى تُرِيحَنِي مِنْهُمَا"، فَلَمْ يَأْتِنَا، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ، وَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ جَاءَ رَاكِبَانِ فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ دَعَانِي فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟" قُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللهُ مِنْهُ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ شَفَقًا مِنْ أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ حَتَّى أَتَى فِي مَبِيتِهِ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ.
سیدنا ابو عامر عبداللہ ہوزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حلب مقام پر ملا، میں نے کہا: اے بلال! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بارے میں آگاہ کرو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جب سے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اس وقت سے وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں والی نہ بنا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ننگا دیکھ لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے، میں جاتا اور قرض لے کر چادر خرید کر لاتا یا کوئی چیز اور میں اسے پہنا دیتا اور اسے کھلاتا، یہاں تک کہ مشرکین کے ایک آدمی نے مجھ پر اعتراض کیا اور کہا: اے بلال! بے شک میں اتنی وسعت والا ہوں، میرے علاوہ کسی اور سے قرض نہ لینا، چنانچہ میں نے اس سے قرض لینا شروع کر دیا، ایک دن میں نے وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہنے لگا تو وہ مشرک آدمی تاجروں کی ایک جماعت میں سے نمودار ہوا، مجھے دیکھا تو کہنے لگا: اے حبشی! میں نے ہاں کہا تو وہ مجھ پر متوجہ ہوا اور سخت باتیں کرنے لگا، کہنے لگا: کیا تجھے پتا ہے تیرے مہینے کے وعدے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: وعدہ قریب ہے، اس نے کہا: چار راتیں رہ گئی ہیں، میں تجھ سے اپنا قرض لے لوں گا، میں نے تجھے جو کچھ دیا وہ تیری یا تیرے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عزت کی وجہ سے نہیں دیا تھا بلکہ اس لیے دیا تھا تاکہ تو میرا غلام بن جائے، پھر میں تجھے بکریاں چرانے پر لوٹا دوں گا، جس طرح تو پہلے تھا، میرے دل پر وہی گزری جو لوگوں کے دلوں پر گزرتی ہے، میں چلا میں نے نماز کے لیے اذان کہی یہاں تک کہ میں نے عشاء کی نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر لوٹ آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، مجھے اجازت ملی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بے شک وہ مشرک آدمی جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا جس سے میں قرض لیتا تھا اس نے اس اس طرح کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی قرض دینے کے لیے کچھ نہیں اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے اور وہ مجھے رسوا کرے گا، مجھے اجازت دیں میں ان قبیلوں کے پاس جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے یہاں تک کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رزق دے جس سے وہ میرا قرض اتاریں، میں نکلا اپنے گھر آیا میں نے اپنی تلوار، موزہ، نیزہ اور جوتا اپنے سر پر رکھا اور اپنے آپ کو ایک کونے کی طرف متوجہ کیا، جب مجھے نیند آنے لگتی تو میں چونک جاتا، جب میں نے رات محسوس کی تو سو گیا یہاں تک کہ صبح کی روشنی پھوٹی، میں نے جانے کا ارادہ کیا پس ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور وہ پکار رہا تھا: اے بلال! تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو دیکھا کہ چار جانور لدے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے اندر داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جا اے بلال! اللہ نے تیرے قرضے کو ادا کرنے کے لیے مال بھیجا ہے۔“ بعد میں فرمایا: ”کیا تو نے وہ چار جانور لدے ہوئے نہیں دیکھے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا وہ جانور بھی تو لے لے اور ان پر لدا ہوا سامان بھی، ان پر کپڑا اور غلہ لدا ہوا ہے، یہ مجھے فدک کے رئیس نے بھیجا ہے، ان کو لے جا اور اپنا قرض ادا کر۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، میں نے ان کا سامان اتارا اور انہیں باندھ دیا، پھر میں نے صبح کی اذان کا ارادہ کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، میں بقیع کی طرف گیا، میں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں، میں نے پکارا اور میں نے کہا: جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض لینا ہے وہ آ جائے، پھر میں بیچتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا اور پیش کرتا رہا اور قرض بھی ادا کرتا رہا حتیٰ کہ زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض نہ رہا، یہاں تک کہ دو یا ڈیڑھ اوقیہ بچ گیا، پھر میں مسجد میں گیا اور دن کا اکثر حصہ بیت چکا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”اس مال کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: اللہ نے ہر چیز ادا کر دی ہے جو اس کے رسول پر تھی، آپ پر باقی کچھ نہیں بچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس مال سے کچھ بچا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں دو دینار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی اسے خرچ کر دے اور مجھے بے فکر کر، میں اس وقت تک گھر داخل نہیں ہوں گا جب تک تو مجھے بے فکر نہ کر دے گا۔“ پس ہمارے پاس کوئی بھی سائل نہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہی رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے دن بھی مسجد میں رہے حتیٰ کہ دن کے آخری حصے میں دو سوار آئے، میں ان کے پاس گیا، میں نے ان کو پہنا دیا اور کھلا دیا، جب عشاء کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس مال کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے فکر کر دیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اللہ کی حمد بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈر تھا کہ کہیں موت آ جائے اور وہ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہو، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس آئے، ایک ایک کو سلام کہا، یہاں تک کہ سونے والی جگہ پر تشریف لائے، یہی تھا وہ جس کے بارے میں تو نے مجھ سے سوال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11435]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11435 in Urdu