السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2422. -- باب: إثم من خاصم أو أعان في خصومة بباطل
-- باب: ناحق جھگڑا کرنے والے یا ناحق جھگڑے میں مدد کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 11441
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي مُلْكِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، ⦗١٣٦⦘ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ حُبِسَ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
(١١٤٤١) ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہوگئی تو اس نے اللہ کی بادشاہت میں اس کی نافرمانی کی اور جو مقروض حالت میں فوت ہوا تو وہاں کوئی دینار اور درھم نہ ہوگا، بلکہ نیکیاں اور برائیاں ہوں گی اور جس نے جاننے کے باوجود باطل میں جھگڑا کیا تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتی کہ الگ ہوجائے اور جس نے کسی مومن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی تو وہ ردغۃ الخبال میں قید رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے جو کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11441]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11441 in Urdu