السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2430. -- باب: إقرار الوارث بوارث
-- باب: ایک وارث کا دوسرے وارث (کے وارث ہونے) کا اقرار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11463
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرْقُوبِيُّ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يَقْبِضَ إِلَيْهِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، قَالَ عُتْبَةُ: إِنَّهُ ابْنِي، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدٌ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ مَعَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، قَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا أَخِي ابْنُ زَمْعَةَ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَإِذَا هُوَ أَشْبَهُ النَّاسِ ⦗١٤٢⦘ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ"، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ" لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ الْحَكَمِ بْنِ نَافِعٍ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو لے لینا۔ عتبہ نے کہا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سعد رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! میرے بھائی کا بیٹا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔“ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بھائی ہے اور زمعہ کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف دیکھا، وہ عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے پاس رہے گا اے عبد بن زمعہ! اس لیے کہ وہ اپنے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سودہ بنت زمعہ! اس سے پردہ کیا کر۔“ عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ ہونے کی وجہ سے (ایسا فرمایا گیا) اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإقرار/حدیث: 11463]
تخریج الحدیث: «بخاري 2053، مسلم 1457»
الحكم على الحديث: بخاري 2053، مسلم 1457
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11463 in Urdu