السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
257. -- باب: إدخال التراب في إحدى غسلاته
-- باب: دھونے کی باریوں میں سے کسی ایک میں مٹی شامل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1149
كَمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالِي وَالْكِلَابُ" وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الرِّعَاءِ وَكَلْبِ الصَّيْدِ وَقَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَالثَّامَنَةُ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَحْفَظُ مَنْ رَوَى الْحَدِيثَ فِي دَهْرِهِ فَرِوَايَتُهُ أَوْلَى وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَتْوَاهُ بِالسَّبْعِ كَمَا رَوَاهُ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ⦗٣٦٨⦘ خَطَأِ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الثَّلَاثِ وَعَبْدُ الْمَلِكِ لَا يُقْبَلُ مَنْهُ مَا يُخَالِفُ فِيهِ الثِّقَاتِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”میں کتوں کی پروا نہیں کرتا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت والے کتے کی رخصت دے دی اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے صاف کرو۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں حدیث روایت کرنے والوں میں سب سے زیادہ حافظ تھے، اس لیے ان کی روایت اولیٰ ہے۔ حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سات مرتبہ (دھونے) کا فتویٰ اسی طرح نقل کیا ہے جس طرح انہوں نے روایت کیا، اور اس میں عبدالملک بن ابی سلیمان کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ والی روایت کے غلط ہونے کی دلیل ہے، اور عبدالملک کی وہ روایت قبول نہیں کی جاتی جس میں وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کرے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1149]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں حدیث روایت کرنے والوں میں سب سے زیادہ حافظ تھے، اس لیے ان کی روایت اولیٰ ہے۔ حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سات مرتبہ (دھونے) کا فتویٰ اسی طرح نقل کیا ہے جس طرح انہوں نے روایت کیا، اور اس میں عبدالملک بن ابی سلیمان کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ والی روایت کے غلط ہونے کی دلیل ہے، اور عبدالملک کی وہ روایت قبول نہیں کی جاتی جس میں وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کرے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 280»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1149 in Urdu