السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2440. -- باب: رد قيمته إن كان من ذوات القيم، أو رد مثله إن كان من ذوات الأمثال، إذا أتلفه الغاصب أو تلف في يديه
-- باب: اگر غصب کی گئی چیز قیمتی اشیاء میں سے ہو تو اس کی قیمت لوٹانا، یا اگر وہ مثلی اشیاء (جن کی مثل مل جاتی ہو) میں سے ہو تو اس کی مثل لوٹانا، جب غاصب اسے ضائع کر دے یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو جائے۔
حدیث نمبر: 11522
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتِ الَّتِي فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ، فَجَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْفِلْقَتَيْنِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْعَلُ فِيهِمَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ:" غَارَتْ أُمُّكُمْ"، وَحَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أَتَى بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا، فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا، وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِهَذَا اللَّفْظِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الصَّحْفَتَانِ جَمِيعًا كَانَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتَيْ زَوْجَتَيْهِ، ولَمْ يَكُنْ هُنَا تَضْمِينٌ، إِلَّا أَنَّهُ عَاقَبَ الْكَاسِرَةَ بِتَرْكِ الْمَكْسُورَةِ فِي بَيْتِهَا، وَنَقْلِ الصَّحِيحَةِ إِلَى بَيْتِ صَاحِبَتِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کے پاس تھے۔ ایک بیوی نے خادم کے ہاتھ کھانے کا ایک پیالہ بھیجا۔ اس بیوی نے خادم پر ہاتھ مارا تو پیالہ گر گیا اور ٹوٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو جمع کیا، پھر ان میں کھانا ڈالا اور فرمایا: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» ”تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے“ اور خادم کو روک لیا یہاں تک کہ اس بیوی (جس کے پاس تھے) کے گھر کا پیالہ لایا گیا، اور یہ صحیح پیالہ اس کے گھر بھیجا اور ٹوٹا ہوا اس کے گھر میں رکھ لیا جس نے توڑا تھا۔
بعض اہل علم کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو پیالے تھے جو دو بیویوں کے گھر تھے، اس میں کوئی ضمانت نہیں ہے، ٹوٹا ہوا اس کے گھر رکھ دیا جس نے توڑا تھا اور صحیح اس کے گھر رکھ دیا جس کا ٹوٹا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11522]
بعض اہل علم کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو پیالے تھے جو دو بیویوں کے گھر تھے، اس میں کوئی ضمانت نہیں ہے، ٹوٹا ہوا اس کے گھر رکھ دیا جس نے توڑا تھا اور صحیح اس کے گھر رکھ دیا جس کا ٹوٹا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11522]
تخریج الحدیث: «بخاري 5225»
الحكم على الحديث: بخاري 5225
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11522 in Urdu