🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2441. -- باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك
-- باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11528
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ، قَالَ: فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الْأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً رَمَى بِهَا ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخِي وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، وَعَلَيَّ أَنْ أُرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلْأُسَارَى قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَخْشَى عَلَيْهِ الْفَسَادَ، وَصَاحِبُهَا كَانَ غَائِبًا، فَرَأَى مِنَ الْمَصْلَحَةِ أَنْ يُطْعِمَهَا الْأُسَارَى، وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ يَضْمَنُ لِصَاحِبِهَا.
عاصم بن کلیب رحمہ اللہ اپنے والد سے مزینہ کے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے فرمایا: قریش میں سے مسلمانوں کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی۔ (راوی) فرماتے ہیں: مجھے میرے باپ ساتھ لے گئے۔ ہم بیٹوں کی مجلس میں بیٹھ گئے، انہوں نے نہیں کھایا مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ پکڑا تو اس کو پھینک دیا، پھر فرمایا: ”میں ایسی بکری کے گوشت کا ذائقہ پاتا ہوں جو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے“۔ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! (یہ) میرے بھائی کی ہے اور میں اس کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہوں، اگر یہ اس سے بہتر بھی ہوتی تو وہ مجھ سے ناراض نہ ہوتا، اور میرے ذمہ ہے کہ میں اسے اس سے بہتر چیز دے کر راضی کر لوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فساد کے ڈر کی وجہ سے تھا کہ اس کا مالک غائب تھا، پس مصلحت کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا، پھر اس کے مالک کو اس کا تاوان دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11528]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11528 in Urdu