السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2442. -- باب: التشديد في غصب الأراضي وتضمينها بالغصب
-- باب: زمینوں کو غصب کرنے کی وعید اور غصب کی صورت میں ان کی ضمانت لازم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى ⦗١٦٣⦘ بِنْتَ أَوْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَمَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ، يَعْنِي ظُلْمًا، طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ"، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا، قَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، قَالَ: فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَبَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ارویٰ بنت اوس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ پر دعویٰ دائر کیا کہ سعید رضی اللہ عنہ نے اس کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔ وہ عورت مروان کے پاس جھگڑا لے کر آئی۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کیسے اس کی زمین پر قبضہ کر سکتا ہوں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ مروان نے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا ہے کہ ”جس نے ایک بالشت ظلم کے ساتھ لے لی اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ مروان نے کہا: اب میں تجھ سے کسی اور دلیل کا سوال نہیں کرتا، پھر سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: «اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا» ”اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی نظر ختم کر دے اور اسے اس کی زمین میں قتل کر دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ نہ فوت ہوئی حتیٰ کہ اس کی نظر چلی گئی اور وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ اچانک ایک گڑھی میں گر کر مر گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11533]
تخریج الحدیث: «بخاري 3198»
الحكم على الحديث: بخاري 3198
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11533 in Urdu