🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
262. -- باب: سؤر الهرة
-- باب: بلی کے جھوٹے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1161
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ح. قَالَ: وَأنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ يَحْيَى - قَالَ حَجَّاجٌ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي امْرَأَتَهُ - عَنْ خَالَتِهَا وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ فَسَأَلَ الْوَضُوءَ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ كَأَنِّي أُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ فَقَالَتْ: يَا ابْنَةَ أَخِي إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ" وَفِي حَدِيثِ الْحَوْضِيِّ أَنَّ خَالَتَهَا حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ فَدَخَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا تُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ، ثُمَّ الْبَاقِي مِثْلَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
(الف) ایک عورت اپنی خالہ سے نقل فرماتی ہے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں کہ میرے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے پانی مانگا، اتنے میں ان کے پاس سے بلی گزری تو آپ نے برتن جھکا دیا، میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا میں اس کا انکار کر رہی تھی تو انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: وہ نجس نہیں ہے وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، عبداللہ بن ابی قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی، باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1161]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1161 in Urdu