🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2453. -- باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره
-- باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11617
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا فَقَالَ:" اشْتَرِ لَنَا بِهِ شَاةً"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَاشْتَرَيْتُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَسَاوَمَنِي بِشَاةٍ فَبِعْتُهَا بِدِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا دِينَارُكُمْ، وَهَذِهِ شَاتُكُمْ، قَالَ: فَقَالُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَصَنَعْتَ كَيْفَ؟" قَالَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" اللهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ"، قَالَ: فَقَالَ إِنِّي لَأَقُومُ فِي الْكُنَاسَةِ بِالْكُوفَةِ، فَمَا أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي حَتَّى أَرْبَحَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عروہ بن ابی جعد بارقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دینار دیا اور فرمایا: ”ہمارے لیے ایک بکری خرید لاؤ۔“ فرماتے ہیں: میں گیا، میں نے ایک دینار سے دو بکریاں خرید لیں۔ مجھے ایک آدمی راستے میں ملا، اس نے مجھ سے ایک بکری کا سودا کیا تو میں نے وہ اسے ایک دینار میں بیچ دی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: یہ آپ کا دینار اور یہ آپ کی بکری۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیسے کیا؟“ آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ» ”اے اللہ! اس کے ہاتھ کے سودے میں برکت ڈال۔“ عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں کوفہ کے کوڑے کے ڈھیر پر کھڑا ہو جاتا اور جب تک چالیس ہزار نفع نہ کما لیتا اس وقت تک گھر نہ آتا تھا۔
اسے ایک جماعت نے سعید بن زید سے روایت کیا ہے، جو حماد بن زید کے بھائی ہیں، اور وہ قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي 1258»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11617 in Urdu