السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2453. -- باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره
-- باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11619
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَبْضَعَ بِضَاعَةً فَخَالَفَ فِيهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" هُوَ ضَامِنٌ، وَإِنْ رَبِحَ فَالرِّبْحُ لِصَاحِبِ الْمَالِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی کے سامان سے تجارت کی اور اس نے مخالفت کی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ اس کا ضامن ہے اور اگر نفع ملا ہے تو نفع مال والے کو ملے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القراض/حدیث: 11619]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 3386»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11619 in Urdu