السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2454. -- باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم
-- باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11623
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا"، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خیبر کی فتح کے وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اس وقت خیبر کی زمین پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ جب یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے درخواست کی کہ انھیں یہاں ہی رہنے دیا جائے اور وہ زمین میں محنت کریں گے، جس کے صلے میں ان کو نصف پھل ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تم کو برقرار رکھتے ہیں اس شرط پر کہ جب تک ہماری مرضی ہو۔“ پس وہ وہیں رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں انھیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11623]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11623 in Urdu