السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2457. -- باب: جواز الإجارة
-- باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 11649
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا لَيُصِيبَ مِنْهُ شَيْئًا يَبْعَثُ بِهِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا، كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشْرَةَ تَمْرَةً عَجْوَةً، فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ؟" قَالَ: بَلَغَنِي مَا بِكَ مِنِ الْخَصَاصَةِ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ عَمَلًا لِأُصِيبَ لَكَ طَعَامًا، قَالَ:" فَحَمَلَكَ عَلَى هَذَا حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ إِلَّا الْفَقْرُ أَسْرَعَ إِلَيْهِ مِنْ جِرْيَةِ السَّيْلِ عَلَى وَجْهِهِ، مَنْ أَحَبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُعِدَّ تِجْفَافًا"، وَإِنَّمَا يَعْنِي الصَّبْرَ ⦗١٩٨⦘ وَرُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ مشکل پیش آئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا چلا، وہ کام کی تلاش میں نکلے تاکہ کچھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے اور سترہ ڈول پانی دیا، ہر ڈول کے بدلے کھجوریں تھیں، یہودی نے سترہ عجوہ کھجوریں دے دیں، وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! یہ کہاں سے لائے ہو؟“ فرمانے لگے: مجھے پتا چلا تھا کہ آپ تنگی میں ہیں، اے اللہ کے نبی! میں نکلا اور میں کام تلاش کرنے لگا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا لاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اس چیز پر ابھارا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے تو فقر و فاقہ اس کی طرف بہنے والے سیلاب سے بھی زیادہ جلدی آتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے وہ جفاکشی (یعنی صبر) کے لیے تیار ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11649]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11649 in Urdu