السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2458. -- باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة
-- باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11655
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" نَشَأْتُ يَتِيمًا، وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا، وَكُنْتُ أَجِيرًا لِابْنِ عَفَّانَ وَابْنَةِ غَزْوَانَ عَلَى طَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْتَطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَأَحْدُو بِهِمْ إِذَا سَارُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا، وَأَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا" ⦗٢٠٠⦘ فَلَيْسَ فِي هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ بِهِ فَأَقَرَّهُمْ عَلَى ذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مُوَاضَعَةً بَيْنَهُمْ عَلَى سَبِيلِ التَّرَاضِي لَا عَلَى سَبِيلِ التَّعَاقُدِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور میں نے مسکینی کی حالت میں ہجرت کی، اور میں ابن عفان اور بنت غزوان کے ہاں اپنے پیٹ کے کھانے اور (سواری پر) اپنی باری کے عوض مزدور تھا۔ جب وہ پڑاؤ ڈالتے تو میں ان کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرتا اور جب وہ چلتے تو میں ان کے لیے حدی خوانی کرتا۔
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11655]
اب تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11655]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه 247»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11655 in Urdu