السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2462. -- باب: ما جاء في تضمين الأجراء
-- باب: مزدوروں (اجیروں) پر تاوان عائد کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11665
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ ذَلِكَ. قَالَ: وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ تَضْمِينُ بَعْضِ الصُّنَّاعِ مِنْ وَجْهٍ أَضْعَفَ مِنْ هَذَا، وَلَمْ نَعْلَمْ وَاحِدًا مِنْهُمَا يَثْبُتُ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُضَمِّنُ أَحَدًا مِنِ الْأُجَرَاءِ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ. وَثَابِتٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا ضَمَانَ عَلَى صَانِعٍ، وَلَا عَلَى أَجِيرٍ.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہی بات فرمائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11665]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بعض کاریگروں کو ضامن ٹھہرانا اس سے بھی کمزور سند سے مروی ہے، اور ہم ان دونوں میں سے کسی کو ثابت نہیں جانتے۔
انہوں نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ وہ مزدوروں میں سے کسی کو ضامن نہیں ٹھہراتے تھے، اور یہ ایسی سند سے ہے جس جیسی ثابت نہیں ہوتی۔
اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کاریگر اور مزدور پر کوئی ضمانت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11665]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الام 4/41»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11665 in Urdu